Shiraz Hassan on cricket diplomacy

کرکٹ ڈپلومیسی، تنازعات کے پرامن حل کا عزم

پاکستان اور بھارت کی تریسٹھ سالہ تاریخ تنازعات کی ایک لمبی داستان ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اس دوران کئی بات انتہائی کشیدگی کا شکار بھی رہے۔ قیام پاکستان اور ہندوستان کی انگریز حکومت سے آزادی کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے مابین اعتماد کی فضا قائم نہ ہو سکی۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے مابین پہلا معرکہ 1948ءمیں کشمیر کے محاذ پر ہوا۔ جس کے بعد حالات مزید کشیدگی کی جانب مائل ہوتے گئے۔ 1965ءمیں ایک بار پھر دونوں ممالک کے افواج آمنے سامنے آئیں۔ 65ءکی جنگ کو ابھی چند ہی برس بیتے تھے کہ پاکستان کو 1971ءکے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ میں پاکستان کو شکست کا خمیازہ دولخت ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ پاک بھارت کے درمیان 1999ء میں کارگل کے محاذ پر بھی فوجیں آمنے سامنے آئیں اور حالات روایتی جنگ کے آغاز کے دہانے تک آپہنچے۔ البتہ موجودہ دور میں ممالک کے سرحدی علاقے اس وقت خاموش ہیں اور امن کی فضاء تیزی سے فروغ پا رہی ہے گویا دونوں ممالک کے سیاسی و دفاعی ماہرین نے تناو ¿ بھرے ماضی سے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ ”جنگ سے نہیں بلکہ امن سے ترقی ممکن ہے۔ “
پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات کے استحکام اور امن کے فروغ کے لئے کرکٹ کا کردار بھی نہایت اہم رہا ہے۔ ورلڈ کپ 2011ءمیں دونوں ٹیمیں موہالی کے میدان میں سیمی فائنل میچ میں آمنے سامنے آئیں ۔ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں نے 2008ءمیں ہوئے ممبئی حملوں کے بعد ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں کھیلا تھا۔ ان دہشت گرد حملوں میں کم و بیش ایک سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت کی جانب سے ان حملوں کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ایک بار پھر سخت کشیدہ ہوگئے تھے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی آئی ہے تاہم بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے وزیراعظم گیلانی کو موہالی میں میچ دیکھنے کی خصوصی طور پر دعوت دی گئی جسے وزیراعظم نے قبول کیا اور اس عزم کے ساتھ موہالی پہنچے کہ ان کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان بھارت کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی کو کم کرنے بلکہ خطہ میں مستقل امن و استحکام کے لئے بھی معاون ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم گیلانی اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک ساتھ میچ دیکھا اور مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ میچ کے بعد وزیراعظم گیلانی نے خصوصی عشائیے میں بھی شرکت کی جسے پاکستان بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے استحکام اور تنازعات کے حل کی جانب
بھی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ضمن میں گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریز کے درمیان ملاقات کے بعد معطل شدہ ’امن مذاکرات‘ کی دوبارہ بحالی کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ نرمپا راو ¿ کے درمیان بھوٹان کے شہر تھمپو میں ہوئی ملاقات انتہائی غیر معمولی نوعیت کی حامل تھی کیونکہ اس میں ”امن مذاکرات“ کو بحال کرنے جیسی دیرینہ ضرورت پر اتفاق کر لیا گیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ نہ صرف کرکٹ شائقین کے لئے بلکہ یہ میچ دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی اور اختلافات و دیگر تنازعات کے حل کی جانب بھی قدم ثابت ہوگا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو چاہئے کہ وہ عوام کی کرکٹ سے جذباتی وابستگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رائے عامہ ہموار کریں۔ امن کے جذبات کو فروغ دیں اور اسلحے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ کی بجائے ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کی ترقی کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ یہی دونوں ممالک کی اور پورے خطے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور بھارت کھیلوں کے مقابلوں اور خصوصاً کرکٹ میں ایک دوسرے کے روایتی حریف سمجھے جاتے ہیں اور ایسے کسی بھی مقابلے میں حریف پر فتح حاصل کرنا دونوں قوموں کیلئے قومی وقار اور انا کا مسئلہ قرار پاتا ہے۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا جب دونوں وزراءاعظم نے ناصرف ایک ساتھ میچ دیکھا بلکہ تعلقات کی بہتری کا عندیہ بھی دیا۔
ماضی میں بھی برِصغیر کے سیاسی رہنماوں کی جانب سے ”کرکٹ ڈپلومیسی“ کے ذریعے دونوں قوموں کے درمیان موجود اختلافات کی خلیج پاٹنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ پاک بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی کے آغاز اسی کی دہائی میں ہوا۔ جب جنرل ضیاء الحق 1987ء میں ایک ایسے وقت میں پاک بھارت میچ دیکھنے بھارت جاپہنچے تھے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی سطح کو چھو رہی تھی۔ بھارت کی جانب سے 1986ء کے اواخر میں ”آپریشن براس ٹیکس“ کے نام سے صوبہ راجستھان میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ نومبر 1986ءسے مارچ 1987ءتک پانچ ماہ جاری رہنے والی یہ مشقیں جنگِ عظیم دوم کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت تھی جس میں پوری بھارتی فوج شریک تھی۔ مشقوں کیلئے منتخب علاقہ پاکستانی صوبہ سندھ سے متصل تھا اور مشقوں کے دوران ایک وقت میں علاقے میں موجود بھارتی فوجیوں کی تعداد 4 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔ پاکستان کیلئے اپنی سرحد سے عین متصل اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا اور اس کی جانب سے یہ سمجھا گیا کہ بھارت پاکستان پر دباو ¿ بڑھا کر سندھ پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر اس وقت کی پاکستانی حکومت کی جانب سے جنوری 1987ء کے وسط میں پاکستان کے تمام دستیاب فوجی دستوں کو بھارتی پنجاب سے ملحقہ سرحد پر تعینات کردیا گیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جانے کے قوی امکانات پیدا ہوگئے تھے۔ ان ا نتہائی کشیدہ حالات میں جب جنگ کے بادل دونوں ملکوں کے سروں پر منڈلا رہے تھے جنرل ضیاءالحق راجستھان میں ہی جے پور کے مقام پر کھیلا جانے والا پاک بھارت ٹیسٹ میچ دیکھنے کے بہانے بن بلائے بھارت جاپہنچے تھے۔ ان کے اس دورے اور بھارتی وزیرِاعظم راجیو گاندھی سے ان کی ملاقات کے سبب دونوں ممالک میں جاری تناو ¿ کم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے میں مدد ملی۔صدر جنرل ضیاءالحق کے اِسی دورے کو برِصغیر میں”کرکٹ ڈپلومیسی“ کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔
بعد ازاں بھی دونوں ممالک کے مابین جب کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کرکٹ میچوں کا سہارا لیا جا رہا ۔معرکہ کارگل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خاصے کشیدہ تھے ۔ رواں صدی کی پہلی دہائی کے اوائل میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے دورہ پر آئی ۔ اس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی نے کھلاڑیوں کو ”صرف میچ ہی نہیں بلکہ دل جیت کر آنے “ کی ہدایت کی تھی۔
پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب سفارتی کوششوں سے2004ء میں دونوں ممالک باہمی اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے پر متفق ہوئے تو چند ابتدائی اقدامات میں پندرہ سال سے تعطل کا شکار پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کو ایک دوسرے کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ کی اجازت دینے کا معاملہ بھی شامل تھا۔ ٹیموں کے تبادلے کے نتیجے کے طور پر دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے شہریوں پر عائد ویزے کی پابندیاں بھی نرم کرنا پڑیں جس کے باعث دونوں طرف کے ہزاروں شائقینِ کرکٹ کو سرحد پار جا کر میچز دیکھنے کا موقع ملا۔
اپریل 2005ء میں پاکستان کے اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف بھی جنرل ضیاءالحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئی دہلی میں ہونے والا پاک بھارت میچ دیکھنے بھارت گئے تاہم ان کا یہ دورہ وزیرِاعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر ہوا تھا۔ کرکٹ کے بہانے ہونے والے اس دورے کے دوران جنرل مشرف کی بھارتی وزیرِاعظم سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں دونوں قوموں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوششیں کریں۔
ء2008 کے اواخر میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد بھارتی کرکٹ حکام نے پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ 2009ء میں شریک ہونے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں پاکستانی کھلاڑیوں کو 2010ءمیں ہونے والے آئی پی ایل سیزن 3 کیلئے بھی نظر انداز کردیا گیا جس پر پاکستان کے کرکٹ اور عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ میچ میں پاکستان کی شکست کے باوجود اس میچ   کو خطہ میں قیام امن کی کوششوں کے لئے ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ من موہن سنگھ اور گیلانی کی ملاقات میں سرکریک ، سیاچن اور دریاﺅں کے پانی کے تنازعات کے پُر امن حل کا عندیہ دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم گیلانی نے اس موقع پر وزیراعظم من موہن سنگھ، سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو پاکستان کے دورہ کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے قبول کیا اور تنازعات کو مذاکرات کی ٹیبل پر حل کر کے خطے کو مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

12 thoughts on “Shiraz Hassan on cricket diplomacy”

  1. sorry!
    Honestly! i don’t know this language. Might be fault of mine. but i m sure “only few people can read it and discuss”

    1. Sir, one way I found we can work around the language barrier is by using Google translate. It reads a little weird as the translation is not accurate. But you can get the essence of what the author is trying to convey.

        1. Really good to see article in urdu. It will help in involving urdu reader in the debate Kafila is organising. Someday back it is reported that a software is developed to translate indian language more accurately than the google translation is doing. The team of Kafial should explore it. In the mean time can the response in urdu for urdu article be arraged.

  2. Heartening to see Urdu article in Qafila. A nicely written article, one may not agree with certain points though.

  3. Those who love Country and the nation cannot love cricket. It helps corruption by diverting the younger generation concentration on counting runs forgetting what politicians are doing. For every single day of cricket the country loose crores of rupees in terms of loss of working hourse while nothing is earned by the country from cricket except the people connected therewith.

  4. But why cant its english translation too be published here. As some onw whose mother tongue is Urdu, I would only be glad if kafila has decided to promote Urdu language. Otherwise, I feel it should be translated.

    But must say nicely written piece…

  5. آداب
    اک اچھی کوشش، امید کہ آگے بھی جاری رہے گی۔

Leave a Reply to voyeur Cancel reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s