Tag Archives: sports and politics

Protesting the Forced Repatriation of Visiting Sports persons and Others from Sri Lanka

Previously posted on dbsjeyaraj.com

We the undersigned are aghast and anguished by the recent decision of the government of Tamil Nadu, acting on the Chief Minister’s orders, to send back two sports teams from Sri Lanka that were in Chennai to play matches against local school teams.

Two days after the Chief Minister issued her orders, members of a Tamil nationalist group, Naam Tamizhar Iyakkam protested against a group of pilgrims from Sri Lanka visiting a church near Thanjavur.

There have been similar protests in the past against visiting teams – by members of the Periyar Dravidar Kazhagam. Continue reading Protesting the Forced Repatriation of Visiting Sports persons and Others from Sri Lanka

Shiraz Hassan on cricket diplomacy

کرکٹ ڈپلومیسی، تنازعات کے پرامن حل کا عزم

پاکستان اور بھارت کی تریسٹھ سالہ تاریخ تنازعات کی ایک لمبی داستان ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اس دوران کئی بات انتہائی کشیدگی کا شکار بھی رہے۔ قیام پاکستان اور ہندوستان کی انگریز حکومت سے آزادی کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے مابین اعتماد کی فضا قائم نہ ہو سکی۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے مابین پہلا معرکہ 1948ءمیں کشمیر کے محاذ پر ہوا۔ جس کے بعد حالات مزید کشیدگی کی جانب مائل ہوتے گئے۔ 1965ءمیں ایک بار پھر دونوں ممالک کے افواج آمنے سامنے آئیں۔ 65ءکی جنگ کو ابھی چند ہی برس بیتے تھے کہ پاکستان کو 1971ءکے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ میں پاکستان کو شکست کا خمیازہ دولخت ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ پاک بھارت کے درمیان 1999ء میں کارگل کے محاذ پر بھی فوجیں آمنے سامنے آئیں اور حالات روایتی جنگ کے آغاز کے دہانے تک آپہنچے۔ البتہ موجودہ دور میں ممالک کے سرحدی علاقے اس وقت خاموش ہیں اور امن کی فضاء تیزی سے فروغ پا رہی ہے گویا دونوں ممالک کے سیاسی و دفاعی ماہرین نے تناو ¿ بھرے ماضی سے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ ”جنگ سے نہیں بلکہ امن سے ترقی ممکن ہے۔ “
پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات کے استحکام اور امن کے فروغ کے لئے کرکٹ کا کردار بھی نہایت اہم رہا ہے۔ ورلڈ کپ 2011ءمیں دونوں ٹیمیں موہالی کے میدان میں سیمی فائنل میچ میں آمنے سامنے آئیں ۔ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں نے 2008ءمیں ہوئے ممبئی حملوں کے بعد ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں کھیلا تھا۔ ان دہشت گرد حملوں میں کم و بیش ایک سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور بھارت کی جانب سے ان حملوں کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ایک بار پھر سخت کشیدہ ہوگئے تھے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی آئی ہے تاہم بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے وزیراعظم گیلانی کو موہالی میں میچ دیکھنے کی خصوصی طور پر دعوت دی گئی جسے وزیراعظم نے قبول کیا اور اس عزم کے ساتھ موہالی پہنچے کہ ان کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان بھارت کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی کو کم کرنے بلکہ خطہ میں مستقل امن و استحکام کے لئے بھی معاون ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم گیلانی اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک ساتھ میچ دیکھا اور مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ میچ کے بعد وزیراعظم گیلانی نے خصوصی عشائیے میں بھی شرکت کی جسے پاکستان بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے استحکام اور تنازعات کے حل کی جانب Continue reading Shiraz Hassan on cricket diplomacy

Indians who want Pakistan to win and Pakistanis who want India to win!

To make our point against jingoism.

To say that no one needs a cricket match to prove their patriotism.

To hope the best for those we’re told we should hope the worst for.

Please join this Facebook Event page and ask your friends across the border to do so, too.

Islam Colony Riders vs. Ward 2 Worriers [sic]

You are a young politician in Delhi and you want to make a mark in an area, in a seat. You want to be known, you want to be a leader, you want followers, you want to be taken seriously. You want votes. You have the right kind of Delhi first name – Mahender rather than Mahendra – and an even better surname – who better than a Chaudhary to be your leader? But there would be many Mahender Chaudharys. What can you do? You can get basic work done – permissions and pipelines and land conversions and garbage clean-up. But anyone with the right contacts can do that. Anyone can become a protege of a Congress leader like Yoganand Shastri. In a city like Delhi, in a city of migrants, in a city whose citizens think they have the right to be treated better than the rest of India, in a city that does not seem to be ‘politicised’ like the seemingly distant world of the ‘real’ India, in a city that is a state – how do you begin being taken seriously as someone with political ambitions? One Mahender Chaudhary has this poster put up all over Mehrauli (which was once all there was to Delhi). Check it out: Continue reading Islam Colony Riders vs. Ward 2 Worriers [sic]